دبئی کا وہ چہرہ جو حکومت دنیا سے چھپانا چاہتی ہے

The government wants to hide from the face of Dubai 's world

دبئی کا وہ چہرہ جو حکومت دنیا سے چھپانا چاہتی ہے

 

دبئی (مانیٹرنگ ڈیسک) صحرائے عرب میں ہیرے کی طرح چمکتا دمکتا دبئی ساری دنیا میں خوبصورتی اور آسائش کی علامت بن چکا ہے لیکن آسمان کو چھوتی عمارتیں اور چمکتی دمکتی سڑکیں بنانے والے پاکستانی، بنگلہ دیشی اور دیگر مزدور اس جنت نظیر شہر میں کس حال میں رہتے ہیں، یہ بات کبھی دنیا کے سامنے نہیں آنے دی جاتی۔
 حال ہی میں ایک ایرانی فوٹوگرافر فرحاد براحمان نے خفیہ طور پر اس علاقے کا دورہ کیا جہاں ہزاروں افراد بدترین حالت میں زندگی گزار رہے ہیں اور درجنوں تصاویر بنائیں جو ان مظلوموں کی دردناک داستان سناتی ہیں۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ دبئی شہر کے نوا ح میں واقع اس علاقے کا نام ”سوناپور“ ہے لیکن یہاں رہنے والے مزدوروں کی حالت بھکاریوں سے بھی بدتر ہے۔ اس علاقے میں پاکستان،بنگلہ دیش، بھارت اور چین جیسے ممالک سے آنے والے 1,50,000 سے زائد مزدور بستے ہیں۔ ہر تنگ و تاریک کمرے میں 8سے 10 تک مزدور رہائش پذیر ہیں۔ فرنیچر اور کھڑکیاں ٹوٹی ہوئی، صفائی کا نام و نشان نہیں اور گرمی بے پناہ۔ ان کی اجرت اوسطاً 20,000 روپے ماہانہ ہے جبکہ روزانہ تقریباً 14 گھنٹے کام کرنا پڑتا ہے۔ قوانین کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے 50 ڈگری سیلسیئس کے خوفناک درجہ حرارت میں بھی ان سے کام لیا جاتا ہے، جبکہ غیر ملکی سیاحوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ دبئی کی دھوپ میں پانچ منٹ سے زیادہ باہر نہ رہیں۔ اس علاقے کی طرف جانے کی کسی کو اجازت نہیں ہے اور اگرچہ فرحاد نے یہ تصاویر رات کو چھپ چھپ کر بنائی ہیں لیکن بالآخر انہیں بھی پولیس نے گرفتار کر لیا، تاہم وہ مزدوروں کی حالت زار کو دنیا کے سامنے لانے میں کسی نہ کسی طرح کامیاب ہو گئے۔
The government wants to hide from the face of Dubai 's world

The government wants to hide from the face of Dubai 's world

Post a Comment

Thanks For Your Feed Back

Popular Posts

 
Top