30 میٹر طویل اژدھا چند منٹوں کے اندر’’ ڈسکوری کے رپورٹر‘‘ کو زندہ نگل گیا ۔

30 میٹر طویل اژدھا چند منٹوں کے اندر’’ ڈسکوری کے رپورٹر‘‘ کو زندہ نگل گیا ۔

 

امریکی ماہر ، تحقیق کے لیے قوی الجثہ اژدھا کے پیٹ میں گھس گیا ۔ پال روسیلی نے خصوصی لباس پہن کر خود کو اژدھے کے چارے کے طور پر پیش کیا تھا ، جسے 30 میٹر طویل اور 500 پاونڈ وزنی اژدھا چند منٹوں کے اندر زندہ نگل گیا ۔ کھوج اورریسرچ رپورٹس کے لیے معروف چینل ’’ ڈسکوری ‘‘ پر 7 دسمبر 2014ء کو اژدھے کے نظام ہضم سے متعلق یہ تحقیقی رپورٹ جس کا نام ’’ ایٹن الائیو ‘‘ رکھا گیا ہے ، پیش کی جائے گی ۔ دوسری جانب جانوروں کے حقوق کے لیے سرگرم امریکی تنظیم اور اس کے سینکڑوں اراکین نے ریسرچ کے نام پر امریکی محقق کی جانب سے اژدھے کے پیٹ میں گھس جانے کو انتہائی خطرناک عمل اور خود جانور کی زندگی کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے ڈسکوری چینل کے بائیکاٹ اور اس ویڈیو رپورٹ کے نشر کرنے پر پابندی کا مطالبہ کر دیا ہے ۔

اپنی آن لائن پٹیشن میں جانوروں کے حقوق کی تنظیم کا کہنا تھا کہ پال روسیلی جانوروں کے لیے ’’ہٹلر ‘‘ بن چکا ہے ، وہ انتہائی احمق انسان ہے جو جانوروں پر تحقیق کے آسان راستوں کو چھوڑ کر خطرناک اور غیر انسانی طریقے استعمال کرتا ہے ۔ جانورں کے حقوق کا کہنا ہے کہ امیزون کے جنگلات میں پایا جانے والا نایاب دیو قامت اژدھا انسانوں کو نہیں نگل سکتا اور ایسا کرنے سے دونوں کی یا کسی ایک کی جان جا سکتی تھی ۔ واضح رہے کہ یہ خطرناک مشن گزشتہ موسم گرما میں پیرو کے گھنے بارانی جنگلات میں 12 رکنی ٹیم کے ساتھ 60 روزہ تحقیقی ٹرپ کے دوران مکمل کیا گیا ۔ جب پال روسیلی سے استفار کیا گیا کہ اژدھے کے پیٹ میں جاکر انہوں نے کیا دیکھا اور محسوس کیا ؟ ۔ تو انہوں نے کہا کہ یہ تو آپ ڈسکوری پر ریسرچ رپورٹ دیکھ کر جان لیں گے لیکن میں صرف اتنا بتانا چاہوں گا کہ یہ جانور انتہائی خطرناک اور طاقت ور ہے اور مجھے اس کی طاقت کا اندازہ اس کے پیٹ میں جاکر ہی ہوا ۔  

 روسی خبر رساں پورٹل ریانو دستی کا کہنا ہے کہ 27 سالہ نوجوان امریکی محقق پال روسیلی گزشتہ ایک دہائی سے دنیا کے سب سے گھنے امیزون کے جنگلات میں خطرناک اور طاقتور اژدھوں پر ریسرچ کر رہے ہیں ۔ انہوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ اس بات کا کھوج لگانے کا فیصلہ کیا کہ جب کوئی اژدھا کسی بڑے جسم والے جانور کو نگلتا ہے تو اژدھے کے پیٹ میں اس جانور پر کیا گزرتی ہے اور اژدھا اس جانور کو کس طرح ہضم کرتا ہے ۔ امریکی محقق پال روسیلی کا کہنا ہے کہ امیزون کے جنگلات میں بڑے بڑے اژدھے ، ہرنوں ، بارہ سنگھوں ، جنگلی خنزیروں ، بھینس کے بچوں اور اسی قبیل کے بڑے جانورں کے جسموں پر خود کو لپیٹ کر اس کا دم گھونٹ دیتے ہیں اور پھر ان جانوروں کو چند منٹوں میں سالم نگل لیتے ہیں ، جس کے بعد ان کا نظام انہضام اس جانور کو ہضم کرنے کے لیے انتہائی تیز اور خطرناک قسم کی رطوبتیں خارج کرتے ہیں ، یہ رطوبتیں اس جانور کو اژدھے کے معدے میں گلادیتی ہیں 

اس طرح منوں وزنی جانور اژدھے کے پیٹ میں ہضم ہوکر خون کا حصّہ بن جاتا ہے ۔ امریکی محقق پال روسیلی کا کہنا ہے کہ ان کا اس خطرناک کام کے لیے ان کی مہم جوئی کے شوق نے مائل کیا ۔ جب انہوں نے اس حوالے سے اپنے ساتھی محققین کی ٹیم سے گفتگو کی تو سب کی چیخیں نکل گئیں اور انہوں نے منع کیا کہ کم از کم یہ جوکھم نہ اٹھایا جائے ۔ اگر پال روسیلی جاننا چاہتے ہیں کہ اژدھے کے پیٹ میں جانے والے جانور پر کیا گزرتی ہے تو اس کام کے لیے ایک ہرن یا بھینس کا بچہ کافی ہوگا ۔ تحقیق میں استعمال کئے جانے والے متعلقہ جانور کے جسم کے ساتھ خصوصی کیمرے فٹ کئے جاسکتے ہیں ۔ جن کی مدد سے پال جان سکیں گے کہ جب اژدھے نے اس جانور کو نگلا تو اس کے ساتھ اژدھے کے معدے میں کیا ہوا ۔ لیکن پال روسیلی کا کہنا تھا کہ وہ اس قسم کی تحقیق کے لیے کسی جانور کا سہارا نہیں لینا چاہتے تھے ۔ 

 انہوں نے اپنی ٹیم پر واضح کر دیا تھا کہ چاہے اس جوکھم کے کام میں ان کی جان چلی جائے لیکن وہ اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ پال روسیلی نے بتایا کہ اس کام کے لیے انہوں نے کاربن فائبر کی مدد سے تیار کئے جانے والا خصوصی لباس پہنا تھا جو نہ صرف انہیں اژدھے کی جانب سے دبائے جانے اور معدے میں چھوڑی جانے والی رطوبتوں اور تیزابوں سے محفوظ رکھنے میں کامیاب ہوا بلکہ اس خصوصی لباس پر ایسے کئی چھوٹے کیمرے نصب تھے ، جن کی مدد سے اژدھے کے پیٹ کے اندر کی تمام تفصیلات انفرا ریڈز کی مدد سے باہر موجود لیپ ٹاپس پر ریکارڈ ہوئی ہیں ۔ جرمن جریدے ڈائی بلڈ کا کہنا ہے کہ پال روسیلی کے لیے تیار کئے گئے لباس میں آکسیجن کا خصوصی بندوبست کیا گیا تھا ، اس میں 180 منٹ تک سانس لینے کے لیے آکسیجن کی مقدار رکھی گئی تھی ، جس کا مقصد پال روسیلی کو زندہ رکھنا تھا ۔

پال روسیلی کے حوالے سے ایک رکن مارٹن کا کہنا تھا کہ ہم سب پال روسیلی کا ارادہ سن کر حیران ہوگئے تھے اور ہم نے پال کو ہر ممکن حد تک منع کیا کہ وہ ایسا خطرناک کام نہ کرے ، کیونکہ اس میں اس کی جان جا سکتی ہے ۔ جس طرح پانی میں مچھلی پر تحقیق کرنے والے مسٹر رون کے ساتھ المناک حادثہ ہوا تھا اور ان کی جان چلی گئی تھی ۔ پال روسلی کے ساتھیوں کا کہنا تھا کہ جب 30 فٹ طویل اور 500 پاونڈ وزنی اژدھا پال روسیلی کو زندہ نگلے گا تو امکان تھا کہ وہ اپنےطاقت ور پٹھوں اور ہڈیوں سے پال کو پیٹ میں پہنچنے سے پہلے ہی دبا کر ہلاک کر دے گا ۔ لیکن پال کا استدلال تھا کہ ایسا نہیں ہوگا ، کیوں کہ خصوصی طور پر تیار کئے جانے والے لباس کی وجہ سے اس کو دبایا نہیں جاسکتا اور نہ ہی اس لباس پر اژدھے کی معدے کی رطوبتیں اور تیزاب اثر دکھا سکتے ہیں ۔ 

 لیکن ایک بات سے سب ہی پریشان تھے کہ اگر اژدھے نے پال کو نگلنے کے بعد نہیں اُگلا تو کیا ہوگا ۔ کیا اژدھے کے پیٹ کو چیر کر پال روسیلی کو باہر نکالا جائے گا ؟ ایسا کرنے کا واضح مقصد یہ ہی تھا کہ پال یا اژدھے میں سے کسی ایک کی جان ضرور جائے گی ۔ لیکن پال کا دعویٰ تھا کہ دو وجوہات کی بنا پر ایسا نہیں ہوگا ، کیونکہ جس لباس کو پال روسیلی نے پہنا تھا ، اس کو ایک مضبوط رسی سے باندھا گیا تھا ، تاکہ پال جب اژدھے کے پیٹ میں سے اشارہ دے گا تو اس رسی کوکھینچا جائے گا ۔ رسی کھینچے جانے کے نتیجے میں اژدھا بے چینی محسوس کرے گا اور پال کو اگل دے گا ۔ آگے چل کر ایسا ہی ہو ، اور پال روسیلی بحفاظت اژدھے کے پیٹ سے نکل آیا ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پال روسیلی نے خصوصی لباس پہن کر اس پر ایک جنگلی جانور کا خون لگا دیا تھا اور اژدھے کے سامنے آکر سر جھکایا ، جس پر خون کا ذائقہ اور خوشبو محسوس ہوتے ہی اژدھے نے پال کا سر اپنے منہ میں لے لیا اور چند منٹوں میں یہ خوفناک اژدھا پال روسیلی کو نگل گیا ۔ خطرناک اسٹنٹ کے بعد جب ایک صحافی نے پال سے استفار کیا کہ وہ کیا چاہتے تھے ؟ 

تو پال روسیلی نے بتایا کہ میں ایسا کچھ کرنا چاہتا تھا کہ لوگ ششدر ہوجائیں اور دانتوں تلے انگلیاں داب لیں اور میں اس کام میں کامیاب رہا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نہ صرف اس اسٹنٹ میں محقق پال روسیلی کامیاب اور محفوظ رہا بلکہ اژدھا بھی زندہ ہے اور صحت مند ہے ۔ ماہرین علم الحشرات نے اس اژدھے کا طبی معائنہ کیا ہے اور تصدیق کی ہے کہ اژدھا سو فیصد فٹ ہے ۔

(47f2930c73191ea5e4ba3f8afb2aacf1)/video/292/006/140600292_mp4_h264_aac_2.mnft

 

Post a Comment

Thanks For Your Feed Back

Popular Posts

 
Top